Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مُردہ جانور کی کھال بیچنے کا شرعی حکم
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2018
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ مردہ جانور کی کھال اتار کر بیچ دیتے ہیں ان کا کھال اُتار نا اور اس کو بیچنا کیسا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں کھال اُتار کر ا گر د باغت کے بعد بیچتے ہیں تو جائز ہے ورنہ جائز نہیں ہے۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ کھال مردہ کا بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟ اس کا جواب کچھ یوں ارشاد فرمایا: ”کھال اگر پکا کر یاد ھوپ میں سکھا کر دباغت کرلی جائے تو بیچنا جائز ہے لِطَهَارَتِهِ وَحِلِ الْاِنْتِفَاعِ (بسبب اس کی طہارت کے اور اس سے نفع کے حلال ہونے کی وجہ سے) ور نہ حرام و باطل ہے لِأَنَّهُ جُزُهُ مَيِّتِ وَبَيْعُ الْمَيْتَةِ بَاطِل (اس لئے کہ وہ مردار کی جُز ہے اور مردار کی بیع باطل ہے)۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.