Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسائل سیکھے بغیر تجارت یا ملازمت کرنے کا شرعی حکم
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ اگست 2018
Question
دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص تجارت کے مسائل سیکھے بغیر تجارت کرتا ہے یا کوئی ملازم اجارے کے مسائل سیکھے بغیر ملازمت کرے تو اس کی کمائی حلال ہو گی یا نہیں؟
Answer (beginning)
تجارت کرنے والے کے لئے تجارت کے اور ملازمت کرنے والے کے لئے ملازمت و اجارہ کے ضروری مسائل سیکھنا فرض ہے اور نہ سیکھنا گناہ ہے۔ البتہ کوئی بغیر مسائل جانے کاروبار یا نوکری کرتا ہے تو اگر کوئی ایسی بات نہیں پائی جاتی جس سے روزی حرام ہو جاتی ہو تو ایسے شخص کی آمدنی کو حلال ہی کہیں گے ۔ اور اگر کوئی ایسی بات پائی جائے جس سے روزی حرام ہو جاتی ہے مثلاً کاروبار میں کم تول کر پورے پیسے لئے یا ملازمت میں چھٹی کرنے کے باوجود جھوٹی حاضری لگا کر تنخواہ لی تو اب اس قدر روزی حرام ہو گی جتنی قیمت کم تول کر اضافی وصول کی یاجور تم جھوٹی حاضری کے دن کی اسے ملی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.