Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کافروں کے استعمال شُدہ کپڑے بیچنے کا شرعی حکم

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ اگست 2018

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا پرانے کپڑوں کا ٹھیلہ ہے اور اس میں کافروں کے بھی استعمال شدہ کپڑے ہوتے ہیں ، ہو سکتا ہے کہ پاک کے ساتھ ساتھ ناپاک کپڑے بھی ہوتے ہوں تو کیا اس طرح کپڑوں کو بیچنا جائز ہے ؟ اگر بالفرض کسی کپڑے کا ناپاک ہونا مجھے معلوم بھی ہو تو اس کو بیچنا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

کپڑے پاک ہوں یا نا پاک دونوں صورتوں میں ان کا بیچنا جائز ہے البتہ جب تک کپڑوں کا ناپاک ہو نا معلوم نہ ہو ان کو پاک ہی سمجھا جائے گا۔ رہی بات کہ کسی کپڑے کے بارے میں آپ کو یقین کے ساتھ ناپاک ہونے کا علم ہے تب بھی اس کی خرید و فروخت تو جائز ہو گی لیکن خریدار کو ضرور بتایا جائے تاکہ وہ اسے پاک کیے بغیر استعمال نہ کرے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ مَا عَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم عَلى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.