Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نفلی طواف کے بعد نفل نماز کا شرعی حکم؟

Question

دَارُ الإِفْتَاء أَبْلَسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ طواف عمرہ کے علاوہ جو نفلی طواف کیا جائے اس کے بعد بھی مقامِ ابراہیم پر نوافل ادا کر ناضروری ہے اور کسی اور جگہ یہ نوافل پڑھے جا سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

طواف یعنی کعبہ شریف کے گرد سات چکر بہ نیت عبادت طواف لگانے پر دور کعت نماز طواف پڑھنا واجب ہے چاہے وہ کوئی بھی طواف ہو لہذا نفلی طواف کے بعد بھی دور کعت نماز طواف ادا کرنا واجب ہے، یہ نماز مقام ابراہیم پر ہی پڑھناضروری نہیں ہے البتہ افضل یہ ہے کہ مقام ابراہیم کے قرب میں اس کے پیچھے کھڑا ہو کر پڑھے کہ مقام ابراہیم اس کے اور کعبہ شریف کے درمیان ہو۔ مقام ابراہیم کے بعد اس نماز کے لئے سب سے افضل جگہ خاص کعبہ معظمہ کے اندر پڑھنا ہے، پھر حطیم میں میزاب رحمت کے نیچے، اس کے بعد حطیم میں کسی اور جگہ، پھر کعبہ معظمہ سے قریب تر جگہ میں، پھر مسجد الحرام میں کسی جگہ ، پھر حریم مگہ کے اندر جہاں بھی ہو ، اس…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.