Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زندگی میں ہی اولاد میں جائیداد تقسیم کرنا
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو کیا حکم ہے ؟ بیٹوں اور بیٹیوں کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟ اگر کوئی بعض اولاد کو حصہ دے بعض کو نہ دے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ نیز اولاد والد سے اس کی زندگی میں اپنے حصے کا زبردستی مطالبہ کر سکتی ہے یا نہیں ؟
Answer (beginning)
ہر شخص کو اپنے تمام مملو کہ اموال کے بارے میں اپنی زندگی میں اختیار ہوتا ہے ، چاہے کل مال خرچ کر ڈالے یا کسی کو دے دے، اس کی زندگی میں اس کے مال میں اس کی زوجہ ، اولاد یا کسی اور کا بطور وراثت کوئی حق نہیں، لہذا اس کا زبر دستی مطالبہ بھی اپنے باپ سے نہیں کر سکتے ، البتہ اگر کوئی اپنا مال اپنی زندگی میں اولاد میں تقسیم کرے تو بہتر ہے کہ بیٹوں اور بیٹیوں میں سب کو برابر برابر دے کیونکہ بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دگنا وراثت میں ہوتا ہے اور وراثت مرنے کے بعد ہوتی ہے، البتہ اگر بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دگناد یا تو یہ بھی نا جائز نہیں ہے ، اور اگر اولاد میں سے کوئی فضیلت رکھتا ہو مثلا طالب علم دین ہو ،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.