Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر مسلم سے زنا کرنا کفر تو نہیں؟

Answered by
مفتی هاشم صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
6075:lar

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی مسلمان عورت نادانی میں غیر مسلم سے زنا کر وا بیٹھے تو کیاوہ اسلام سے خارج ہو جائے گی اسے تجدید ایمان بھی کرنا ہو گا ؟

Answer (beginning)

زنا مسلم سے ہو یا کافر سے ناجائز ، حرام ، کبیرہ گناہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے مگر کفر نہیں اس لئے تجدید ایمان بھی لازم نہیں ہاں تو بہ فرض ہوتی ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو مسلمانوں پر لازم ہوتا ہے کہ اس کا بائیکاٹ کر دیں یہاں تک کہ توبہ کرلے یاد رہے گناہ کتنا ہی بڑا ہو جبکہ وہ کفر و شرک نہ ہو تو اس کا مر تکب اسلام سے خارج نہیں ہو گا ہاں اگر ایسے گناہ کو حلال جانا جس کا گناہ ہونا ضروریات دین کی حد تک ہے تو کافر و مرتد ہو جائے گا لہذا اگر کوئی زنا کی حلت کا قائل ہو تو وہ کافر و مرتد ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.