Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غیر مسلم سلاٹر ہاؤس سے گوشت خرید کر بیچنا کیسا؟
- Answered by
- مفتی هاشم صاحب مدظله العالی فتوی نمبر:Lar:6291-b
- Fatwa no.
- Lar:6291-b
- Issued
- 17 جمادی الاول 1438ھ /15 فروری2017ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میں AUSTRALIA میں رہتا ہوں، یہاں ایک مسلمان گوشت فروش ہے۔ وہ سلاٹر ہاوس میں جاکر بکرے اور گائے ہاتھ سے چھری پکڑ کر تکبیر پڑھ کر ذبح کرتا ہے۔ سلاٹر ہاوس کفار (غیر کتابیوں) کی ملکیت ہے۔ جو جانور وہ مسلمان ذابح نے ذبح کیے ہوتے ہیں، ان کو کھال اتار کر نمبر الاٹ کر کے سلاٹر ہاوس میں سرد خانے میں رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر چو ہمیں گھنٹے بعد مسلمان گوشت فروش وہ سالم ذبح شدہ جانور وہاں سے خرید کر لاتے ہیں، اور مسلمانوں کو بیچتے ہیں۔ مسلمان قصابوں کے بقول ان کے ذبح شدہ جانور ( جن پر نمبر الاٹ کیے جاتے ہیں) وہ کفار کے ذبح کیے ہوئے جانوروں کے ساتھ تبدیل ہو جائیں ایسا نہیں ہوتا، سرد خانے وغیرہ پر مامور بھی تمام مزدور غیر مسلم ( غیر کتابی ) ہوتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ وہی جانور ہیں جنہیں مسلمان ذابح نے ذبح کیا ہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں! (1) کیا مذ کورہ بالا جانور جن پر نمبر الاٹ کیے جاتے ہیں مسلمان گوشت فروشوں کو یہ خرید ناجائز ہے؟ (2) ان گوشت فروشوں کا یہ گوشت عام مسلمان کو بیچنا کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
سائل : محمد کامران عطاری(Australia) (1،2) صورت مسئولہ میں مسلمان گوشت فروشوں کا مذکورہ بالا ذبح شدہ جانور جن پر نمبر الاٹ کیے جاتے ہیں ان کو خرید نا، کھانا اور مسلمانوں کو بیچنا جائز نہیں کیونکہ حیوان جب تک زندہ تھا وہ حرام تھا اور مسلمان کے ذبح شرعی سے وہ حلال ہو گیا لیکن مسلمان تک پہنچنے میں اس ذبح شرعی کا ثبوت یقینی نہیں بلکہ اس میں شک ہے کیونکہ ممکن ہے کفار اسی طرح کی مہر کسی اور جانور کو لگا کر وہ مسلمانوں کو بیچ دیں، لہذا جب اس کے حرام ہونے کا یقین حاصل ہے اور حلال ہونے میں شک ہے تو یہ حرام ہی کہلائے گا کہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا، نیز سرد خانے کے محافظ مزدوروں کی خبر اس بارے میں معتبر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
Appears in topics
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.