Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض ختم ہونے پر اضافی قسط بطور فنڈ لینا جائز ہے یا نہیں؟
- Answered by
- مفتی قاسم صاحب مدظله العالی
- Fatwa no.
- 4896:Pin
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہم ایسے فلاحی ادارے سے قرض لے سکتے ہیں، جو قرض ختم ہونے پر ایک اضافی قسط بطور فنڈ لیتے ہوں، اور وہ اس اضافی رقم کو فلاحی کاموں میں خرچ کرتے ہوں، تو کیا وہاں سے قرض لینا جائز ہے؟
Answer (beginning)
رضائے انہی کے لئے لوگوں کی حاجت روائی کے مقصد سے انہیں قرض دینا ثواب کا کام ہے ، اسی لئے بعض اوقات کچھ ادارے لوگوں کی خدمت کے لئے قرض کی سہولت فراہم کرتے ہیں اور ان کا جذبہ بہت اچھا ہوتا ہے۔ اور چونکہ یہ لوگ سود کی حرمت و شدت سے بھی واقف ہوتے ہیں، اس لئے سود سے بچنے کے لئے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہتے ہیں جس میں سود بھی نہ لیا جائے اور ادارے کو کچھ فائدہ بھی ہو جائے۔ سوال میں مذکور صورت میں بھی شاید ایسا ہی کچھ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن شرعی علم نہ ہونے کی وجہ سے سود سے بچنے کے لئے سود کی ہی ایک صورت کو اختیار کر لیا گیا جو خالص سود ہی ہے اور حرام ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.