Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا عمرہ میں قصر نمازیں پڑھنی ہونگی؟

Fatwa no.
0290:Fmd
Issued
17 جمادی الاول 1438ھ /15 فروری2017ء

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ الحمد للہ عزوجل ہم گیارہ افراد عمرے کی ادائیگی کے لئے جارہے ہیں ، اور ہمارا شیڈول یہ ہو گا، کہ پہلے تین دن مدینہ منورہ میں ہوں گے ، پھر مکہ مکرمہ میں چار دن ہوں گے ، اور پھر مدینے شریف میں تین دن قیام ہو گا، اور پھر مکہ مکرمہ میں آٹھ دن قیام ہو گا ، اور آخر میں مدینے شریف میں آٹھ دن قیام ہو گا، اور وہیں سے واپس پاکستان آنا ہو گا، تو معلوم یہ کرنا ہے، کہ اس پورے شیڈول میں ہمیں نمازوں میں قصر کرنی ہے یا مکمل پڑھنی ہے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ سب زائرین حرمین شریفین زادهما الله شرفا و تعظیماً اس مبارک سفر میں اول تا آخر مسافر ہی رہیں گے ، اور پنجگانہ ، چار رکعت والی فرض نمازوں (ظہر، عصر اور عشاء) میں قصر ہی کریں گے ، جبکہ سنتوں میں قصر نہیں ہے۔ اپنے وطن سے 92 کلو میٹر مسافت دور ، کسی دوسری جگہ پر مسافر اس وقت مقیم کہلاتا ہے جبکہ اس جگہ ، مستقل، لگاتار ، کم از کم 15 دن، رات قیام کا ارادہ ہو ، جبکہ پندرہ دن رات سے کم قیام کی صورت میں جیسا کہ اس شیڈول میں مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ میں کہیں بھی پندرہ دن رات کا قیام نہیں ہو گا، تو یہ دونوں جگہیں آپ سب کے لئے وطن سفر ہوں گی اور وطن سفر میں مسافر کو نماز میں قصر کرنے کا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.