Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کن اعضا سے پانی مستعمل نہیں ہوتا ؟

Answered by
مفتی فضیل صاحب مدظله العالی
Fatwa no.
0251:Fmd
Issued
25 ربیع الثانی 1438ھ /24 جنوری2017ء

Question

دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ بے وضو شخص نے وہ دردہ سے کم پانی میں اعضائے وضو کے علاوہ کوئی اور عضو، مثلاً گھٹنا ڈال دیا تو وہ پانی مستعمل ہوگا یا نہیں ؟ اس بارے میں وضاحت فرمائیں۔

Answer (beginning)

علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ حدث اکبر (یعنی جن چیزوں سے غسل فرض ہو) کی طرح حدث اصغر ( یعنی : جن چیزوں سے صرف وضو لازم ہو ) بھی ، پورے بدن میں سرایت کرتا ہے یا حدث اصغر فقط چار اعضاء میں سرایت کرتا ہے،ان کے علاوہ باقی تمام اعضاء حدث سے محفوظ رہتے ہیں ؟ رایج تر قول یہ ہی ہے کہ حدث اصغر فقط چار اعضاء میں سرایت کرتا ہے ، لہذا اگر کسی بے وضو شخص نے اعضائے وضو کے علاوہ مثلاً گھٹنا، پیٹھ یاران یا کروٹ کو دہ دردہ سے کم پانی میں ڈالا یاکسی بھی طرح ان پر سے پانی گزر اتو وہ پانی مستعمل نہیں ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.