Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
استحاضہ میں روزے کا حکم
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینه رمضان المبارک 1442ھ مئی 2021
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ 02 رمضان کو عورت کو عادت کے مطابق حیض آیا اور عادت کے مطابق 07 رمضان کو ختم بھی ہو گیا پھر دوبارہ 14 رمضان کو خون آگیا تو کیا یہ حیض شمار ہو گا؟ اور اس سے روزہ ٹوٹ گیا؟
Answer (beginning)
دو حیضوں کے درمیان کم از کم پندرہ دن فاصلہ ضروری ہوتا ہے ، پندرہ دن سے پہلے آنے والا خون حیض نہیں بلکہ استحاضہ یعنی بیماری کا خون ہوتا ہے، لہذا چودہ رمضان کو جو خون آیا وہ حیض نہیں، بلکہ استحاضہ ہے اور استحاضہ چونکہ نماز و روزہ کے منافی نہیں ہوتا، لہذ ا عورت کا روزہ بھی نہ ٹوٹا۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.