Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ناپاک دودھ یا تیل بیچنا کیسا؟
- Answered by
- مفتی علی اصغر صاحب مدظله العالی تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ رمضان المبارک 1442ھ مئی
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ رمضان المبارک 1442ھ مئی
Question
دَارَ الإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری دودھ کی دکان ہے ، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دودھ میں کوئی ناپاک چیز گر جاتی ہے اور دودھ ناپاک ہو جاتا ہے۔ یہ ارشاد فرمائیں کہ وہ ناپاک دودھ گاہک کو بیچنا کیسا ہے ؟ یہ مسئلہ بسا اوقات پر چون والوں کو بھی پیش آتا ہے کہ ان کے تیل وغیرہ میں بھی چوہا مر جاتا ہے لہذا دونوں کے متعلق بیان فرما دیں۔
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں ناپاک دودھ یا ناپاک تیل بیچنا جائز نہیں کیونکہ عموماً لوگ کھانے پینے میں استعمال کرنے کے لئے ہی دودھ یا تیل خریدتے ہیں نیز دودھ یا تیل کا ناپاک ہونا عیب ہے اور عیب دار چیز عیب بتائے بغیر بیچنا جائز نہیں۔ ہاں اگر خریدار کو اس کا ناپاک ہونابتا کر بیچیں تا کہ خریدار ناپاک دودھ یا تیل کو جائز طریقے سے استعمال کرے تو پھر بیچنا، جائز ہے۔ حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : “ المسلم اخو المسلم ولا يحل لمسلم باع من اخیه بیعا فيه عیب الا بينه له “ یعنی مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں لہذا کسی مسلمان کو یہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.