Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بے ہوشی سے روزہ ٹوٹنے کا حکم

Answered by
مفتی علی اصغر صاحب مدظله العالی تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ شعبان المعظم 1442ھ اپریل
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ شعبان المعظم 1442ھ اپریل

Question

دَارَ الْإِفْتَاء أَبْلِسُنَّت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے رمضان المبارک میں روزور رکھنے کی نیت سے سحری کی، تقریبا 3 گھنٹے 7 تا 10 طبیعت کی خرابی کی وجہ سے اچانک خود بخود بے ہوش ہو گیا، 3 گھنٹے کے بعد ہوش میں آگیا۔ پوچھنا یہ ہے کہ آیا اس بے ہوشی کی وجہ سے روزے پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں ؟ شرعی راہنمائی فرما دیں۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں بے ہوش ہونے کے بعد ہوش میں لانے کیلئے ناک یا منہ میں کوئی ایسی چیز نہیں ڈالی گئی جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہو، مثلاً دوائی، پانی وغیرہ نہیں پلایا گیا، تو صرف بے ہوشی کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ خالی بے ہوش ہونا، ایسا سبب نہیں ہے جس سے روزہ فاسد ہو جائے۔ (المبسوط للسرخسی، 70/3، بہار شریعت، 967/1) وَاللهُ أَعْلَمُ مَا مَن وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat f daruliftaahlesunnat DaruliftAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.