Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
خریداری کا وکیل اپنا نفع نہیں رکھ سکتا
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ رجب المرجب 1442ھ / مارچ 2021 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی جاننے والے نے کوئی چیز منگوائی تو کی لانے والا اپنا پرافٹ رکھ سکتا ہے؟
Answer (beginning)
جہاں کاروبار ہو وہاں تو یہ بات معہود (Understood) ہوتی ہے کہ اس کا کاروبار ہے تو یہ مارکیٹ سے چیز لائے گا اور اپنا نفع رکھ کر ہمیں بیچے گا۔ اس صورت میں بھی یہ ایک وعدہ ہوتا ہے پھر چیز آنے پر ریٹ طے ہو کر سودا ہوتا ہے۔ جب وعدہ کی صورت ہے تو دکاندار کو بھی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر سامنے والا چاہے تو نہ خریدے لہذا اس پر جبر نہیں کیا جاسکتا ایسے موقع پر خرید و فروخت کے تمام تقاضے بھی پورے کرنا ضروری ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.