Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جائیداد میں لڑکیوں کو عاق کرنا کیسا؟
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ کیا جائیداد میں لڑکیوں کو عاق کیا جاسکتا ہے؟ سائل : دانش اظہر (کہوٹہ ، راولپنڈی)
Answer (beginning)
”عاق“ نافرمانی کرنے والے کو کہتے ہیں ، جو والدین کی نافرمانی کرتا ہے ، وہ خود ہی عاق و گناہ کبیرہ کا مر تکب ہوتا ہے ، والدین کے عاق کرنے کا اس میں کوئی دخل نہیں، لیکن عاق کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ اس کو وراثت میں سے حصہ نہیں ملے گا، آج کل لوگ اپنی اولاد کو عاق کہہ کر وراثت سے محروم کر دیتے ہیں، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ ہی اس وجہ سے کوئی شرعی وارث وراثت سے محروم ہو گا، بلکہ ایسا کرنے والا شخص گناہ گار ہو گا، کیونکہ وراثت شریعت کا مقرر کردہ حق ہے ، جو کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہو سکتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں لڑکا ہو یا لڑ کی ، اسے اپنی وراثت سے عاق کرنا شرعاً جائز نہیں ہے اور کسی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.