Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازمیں سورہ فاتحہ اوراُس کے ساتھ تین آیتیں پڑھنا فرض ہے یا واجب ؟
- Answered by
- مفتی فضیل صاحب مدظله العالی فتوی نمبر: 0121:fmd
- Fatwa no.
- 0121:fmd
- Issued
- 25 محرم الحرام 1438ھ /27اکتوبر 2016ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ نماز میں سورہ فاتحہ اور اُس کے ساتھ تین آیتیں پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ یہ پوچھنے کا مقصد اس بات کی وضاحت طلب کرنا ہے کہ نماز میں قراءت کر نافرض ہے اور قراءت میں سورہ فاتحہ اور تین آیتوں کی تلاوت کرنا ہوتا ہے تو ان کی تلاوت کرنا بھی فرض ہوا حالانکہ امیر اہلسنت دامت برکاتھم العالیہ نے کتاب اسلامی بہنوں کی نماز، ص104 پر " سورہ فاتحہ اور تین آیتیں پڑھنا نماز کے واجبات میں شمار فرمایا ہے۔ اس بارے میں تطبیق بیان فرماد بیجیے۔
Answer (beginning)
سائل منظور علی (جامعۃ المدینہ للبنات، سرجانی ٹاون کراچی) تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ نماز میں قرآن کریم کی صرف ایک آیت (کسی سورت کی تخصیص کے بغیر ) سورہ فاتحہ سے خواہ اس کے علاوہ کسی اور سورت سے پڑھنا فرض ہے لہذا اگر کوئی فقط " آل محمد لله رب العلمی بین " پڑھ کر رکوع میں چلا گیا تو نماز کا فرض ادا ہو گیا لیکن واجبات رہ گئے اور نماز ناقص ہوئی۔ جبکہ پوری سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ تین چھوٹی چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت جو تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہو پڑھنا یہ دونوں مستقل طور پر الگ الگ واجب ہیں جس میں کمی ہوئی تو نماز ہو جائے گی یعنی فرض ادا ہو جائے گا لیکن ترک واجب کی وجہ سے نقص لازم آئے گا پھر اگر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.