Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

باپ کے چچا زاد بھائی سے نکاح کرنے کا حکم

Fatwa no.
3758-WAT
Issued
22 شوال المکرم 1446ھ / 21 اپریل 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا باپ کے چا کے بیٹے سے نکاح کرنا جائز ہے ؟

Answer (beginning)

والد کے چچا کے بیٹے یعنی باپ کے چچازاد بھائی سے نکاح کرنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، بشر طیکہ رضاعت وغیرہ کوئی اور وجہ ممانعت نہ ہو؛ کیونکہ اس کی حرمت شرع سے ثابت نہیں کہ حرمت کے اصولوں میں یہ قاعدہ مذکورہ ہے کہ اپنی اصل بعید کی فرع بعید حلال ہوتی ہے (جبکہ ممانعت کی کوئی اور وجہ نہ ہو) اور باپ کے چا کا بیٹا، اپنی اصل بعید یعنی پڑدادا کی فرع بعید ہے یعنی پڑدادا کی اولاد کی اولاد ہے، پس اگر ممانعت کی کوئی دوسری وجہ نہ ہو تو اس سے نکاح حلال ہے۔ کس سے نکاح جائز ہے اور کس سے نہیں ؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.