Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں قومہ کی تسبیح بھول جائیں تو کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 3727-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر قومے کی تسبیح بھول جائے تو کب پڑھنی چاہیے ؟
Answer (beginning)
رکوع سے اٹھتے ہوئے، مقتدی کے لیے صرف تحمید ( اللهم ربنا ولک الحمد) کہنا اور منفر د ( یعنی تنہا نماز پڑھنے والے) کے لیے تسمیع و تحمید (سمع الله لمن حمده، اللهم ربنا ولک الحمد)دونوں کہنا سنت ہے اور سنت کے چھوٹ جانے سے نہ نماز فاسد ہوتی ہے اور نہ سجدہ سہو لازم ہوتا ہے اور تسمیع و تحمید کا یہی موقع و محل ہے ،لہذا اگر اس مقام پر ان کو نہ پڑھا جاسکا تو پھر دوسرے کسی مقام پر ان کا اعادہ نہیں ہے۔ بہار شریعت میں ہے "رکوع سے اٹھنے میں امام کے لیے سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ کہنا اور مقتدی کے لیے اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْد کہنا اور منفرد کو دونوں کہنا سنت ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.