Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوۃ کی رقم سے مدرسہ کی زمین خریدنا

Answer (beginning)

بعد ذلك بالصرف الى هذه الوجوه فيكون للمتصدق ثواب الصدقة ولذلك الفقير ثواب بناء المسجد والقنطرة“ ترجمہ : اگر کوئی شخص مال زکوۃ سے میت کا کفن تیار کرنا چاہے، تو یہ جائز نہیں ہے ، ہاں یہ حیلہ کر سکتا ہے کہ یہ شخص (مالِ زکوۃ ) میت کے خاندان کے کسی فقیر پر صدقہ کر دے اور پھر وہ میت کا کفن تیار کر دے، تو اب مالک کے لئے صدقے کا اور اہل میت کے لئے تکفین کا ثواب ہو گا، اسی طرح کا حیلہ تمام ان امورِ خیر میں کیا جاسکتا ہے، جس میں تملیک نہیں پائی جاتی، مثلاً مساجد ، پل اور سرائے بنانا کہ ان کاموں میں زکوۃ کا مال خرچ کرنا جائز نہیں ہے اور یہاں یہی حیلہ ہو گا کہ مالک زکوۃ کی مقدار کے برابر مال کسی فقیر کو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.