Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گاؤں کی واٹر سپلائی پر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 3718-WAT
- Issued
- 12 شوال المکرم 1446ھ / 11 اپریل 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے گاؤں میں واٹر سپلائی کی موٹر خراب ہے، جس پر سات آٹھ لاکھ کا خرچہ آئے گا، میرے پاس زکوۃ کی رقم جمع ہے، کیا وہاں خرچ کر سکتا ہوں ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں واٹر سپلائی کی موٹر پر زکوۃ کے پیسے ڈائریکٹ خرچ نہیں کر سکتے کیونکہ زکوۃ کی ادائیگی کے لئے مستحق زکوۃ کو مال زکوۃ کا مالک بنانا ضروری ہے ورنہ زکوۃ ادا نہیں ہو گی، ہاں اگر عاقل بالغ مستحق زکوۃ مال پر قبضہ کر کے اپنی طرف سے اس کام میں لگادے تو کوئی حرج نہیں کہ اس کے قبضہ کرنے سے زکوۃ ادا ہو گئی، اب اس کا اپنی طرف سے اس کام کے لیے دینا نفلی کام ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.