Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجد شہید ہونے پر معتکفین کا دوسری مسجد جانا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد بلال عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3714-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) 23 رمضان المبارک کو ہماری مسجد کو تعمیر کرنے کے لئے شہید کر دیا گیا اور اعتکاف والوں کو دوسری مسجد میں منتقل کر دیا گیا، تو کیا ان کا اعتکاف ٹوٹ گیا ؟
Answer (beginning)
اگر واقعی مسجد شہید ہو گئی اور اعتکاف کرنے والے فورا دوسری مسجد میں چلے گئے، تو ان کا اعتکاف نہیں ٹوٹا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے " فإن خرج من المسجد بعذر بأن انهدم المسجد أو أخرج مكرها فدخل مسجدا آخر من ساعته لم يفسد اعتكافه استحسانا هكذا في البدائع “ترجمہ: معتکف اگر مسجد سے عذر کی وجہ سے نکلا مثلاً مسجد شہید ہو گئی یا اسے زبردستی نکال دیا گیا اور وہ فور دوسری مسجد میں داخل ہو گیا تو استحسانا اس کا اعتکاف نہیں ٹوٹے گا، جیسا کہ بدائع میں ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.