Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وضو میں چہرے سے ٹپکنے والے قطرے چلو میں گر جائیں تو چلو کے پانی کا حکم

Fatwa no.
3713-WAT

Question

دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) جب میں وضو کرتی ہوں تو چہرہ دھونے کے لئے جب ہاتھ سے پانی لیتی ہوں اور وہ پانی میں چہرے کی طرف لے جارہی ہوتی ہوں تو پہلے جو پانی میرے چہرے سے ٹپک رہا ہو تا ہے وہ نئے پانی کے اندر گر جاتا ہے، تو کیا یہ پانی استعمال شدہ شمار ہو گا، اس سے وضو نہیں ہو گا ؟

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں اگر چلو میں اچھا غیر مستعمل پانی، چہرے سے گرنے والے مستعمل پانی کے قطروں کی مقدار سے زیادہ ہے ( اور عموما ایسا ہی ہوتا ہے ) تو ان قطروں کی وجہ سے اس اچھے پانی میں کوئی فرق نہیں آئے گا، لہذا اس پانی سے وضو اور غسل کر سکتے ہیں۔ اور اگر چلو میں اچھا پانی کم ہے اور استعمال شدہ پانی کے قطرے اس سے زیادہ مقدار میں اس میں گرے ہیں یا چلو کا اچھا پانی اور اس میں گرنے والے مستعمل پانی کے قطرے دونوں مقدار میں برابر ہیں، تو اب وہ سارا پانی مستعمل ہو گیا اس کو وضو، غسل یا کسی طہارت کے لیے استعمال نہیں کر سکتے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.