Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چھوٹے بچے سے بار بار نجاست دھونا مضر ہو تو کیا کیا جائے ؟

Fatwa no.
3710-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) گھر میں چھوٹے بچے ہوتے ہیں جو بار بار نجاست کر دیتے ہیں اور اگر اسے بار بار دھویا جائے تو بچے بیمار پڑ جاتے ہیں اور ڈاکٹر ز بھی منع کرتے ہیں ٹھنڈ سے بچانے کے لیے، اس صورتحال میں تو بچے ہمیشہ ناپاک ہوتے ہیں تو اب ایسی حالت میں پاکی کا کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

بدن سے نجاست دُور کرنے میں دھونا یعنی پانی وغیرہ بہانا شرط نہیں بلکہ اگر پاک کپڑ او غیر ہ پانی میں بھگو کر اس قدر پونچھیں کہ نجاست مرئیہ (ایسی نجاست جو خشک ہونے کے بعد بھی نظر آتی ہے جیسے پاخانہ وغیرہ) لگی ہے تو اس کا اثر نہ رہے مگر اتنا جس کو زائل کرنے میں مشقت و دشواری ہو اور غیر مرئیہ (جو خشک ہونے کے بعد نظر نہیں آتی جیسے پیشاب وغیرہ) لگی ہے تو غالب گمان ہو جائے کہ اب باقی نہ رہی اور ہر بار کپڑ او غیر ہ تازہ لیں یا اُسی کو پاک کر لیا کریں تو بدن پاک ہو جائے گا اگر چہ ایک قطرہ پانی کانہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.