Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پانچ وقت کی نماز میں زائد تکبیروں کا مسئلہ
- Fatwa no.
- 3703-WAT
- Issued
- 05 رمضان المبارک 1446ھ / 06 مارچ 2025ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ یہ جو زائد تکبیریں ہوتی ہیں یہ نماز عید کے علاوہ دوسری پنجگانہ نمازوں میں ہوتی ہیں یا نہیں ؟ اس حوالے سے کوئی حدیث وغیرہ ہو تو بتا دیں۔
Answer (beginning)
نماز کا معاملہ توقیفی ہے ، حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز جس انداز میں ادا فرمائی ، اسے اسی طریقے کے مطابق پڑھناضروری ہے اور چونکہ تکبیرات زوائد کا حکم احادیث کریمہ کی روشنی میں نماز عید کے لئے ثابت ہے ،اسی وجہ سے یہ زائد تکبیرات ، خاص و عام سب میں تکبیرات العید ( یعنی عید نماز کی تکبیرات) کے نام سے مشہور ہیں، نماز پنجگانہ میں یہ زائد تکبیریں کہنا کہیں ثابت نہیں، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کے دور مبارک سے لیکر آج تک نماز پنجگانہ میں یہ تکبیریں کسی نے نہیں پڑھی ہیں۔ صحیح ابن حبان میں ہے: ” عن مالک بن الحویرث قال لنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.