Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

روزے کی حالت میں مشت زنی سے روزے کا حکم؟

Fatwa no.
3701-WAT
Issued
23 رمضان المبارک 1446ھ / 24 مارچ 2025 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) روزے کی حالت میں مجھے نفس پر قابو نہ رہا اور ہاتھ سے پریکٹس کی لیکن منی خارج نہیں ہوئی تو اس صورت میں روزے کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

روزے کی حالت میں مشت زنی کرنے سے اگر منی اپنے مقام سے شہوت کے ساتھ جد اہو کر نہ نکلے توروزہ نہیں ٹوٹتا لیکن اگر منی اپنے مقام سے شہوت کے ساتھ جدا ہو کر نکل جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ نوٹ: یادر ہے کہ امشت زنی کرنا (یعنی اپنے ہاتھ سے ناجائز طور پر شہوت پوری کرنا) سخت نا پاک فعل اور گناہ والا کام ہے ، اس سے بچنا ہر مسلمان کے لیے لازم و ضروری ہے اور روزے کی حالت میں ایسا کرنا اور زیادہ سخت گناہ ہے۔ مشت زنی ناجائز و گناہ ہے، چنانچہ در مختار میں ہے: الاستمناء بالكف وان کره تحریما لحديث ناکح اليد ملعون“ ملخصاً۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.