Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام ”حباء فاطمہ“ رکھنا
- Issued
- 23 رمضان المبارک 1446ھ / 24 مارچ 2025ء
Question
(دعوت اسلامی) کیا بچی کا نام ”حباء فاطمہ “رکھ سکتے ہیں ؟ اور اس نام کا صحیح تلفظ کیا ہے ؟ ہبہ ، حبا یا حباء؟
Answer (beginning)
وو حباء (حاء کے زیر کے ساتھ) کا معنی عطیہ (تحفہ) ہے اور ہبہ کا معنی بھی عطیہ ہے اور فاطمہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی پیاری شہزادی کا نام ہے۔ لہذا حباء فاطمہ “ اور ”ہبہ فاطمہ “ دونوں اعتبار سے نام رکھنا درست ہے ( نیز عربی میں حباء کے آخر میں ” “ بھی لکھا جاتا ہے اور اسی کو بعض اوقات ”حبا“ یعنی بغیر ” “ لکھ دیا جاتا ہے)۔ البتہ ! بہتر یہ ہے کہ صرف فاطمہ نام رکھا جائے کہ اچھوں کے نام پر نام رکھنے کا حدیث مبارکہ میں حکم فرمایا گیا ہے اور اس سے امید ہے کہ ان کی برکت بچی کے شامل حال رہے گی۔ الفردوس بماثور الخطاب میں ہے: ” تسموا بخیار کم “ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.