Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
روزے کی حالت میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا؟
- Issued
- 23 رمضان المبارک 1446ھ / 24 مارچ 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) روزے کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کرنا کیسا؟ اس حالت میں مذی نکل آئے، تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا؟
Answer (beginning)
روزے کی حالت میں اگر انزال ہو جانے (یعنی منی کے شہوت کے ساتھ جد اہو کر نکل جانے ) یا ہمبستری میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہو ، تو ایسی صورت میں بیوی کا بوسہ لینا مکروہ و نا پسندیدہ عمل ہے کہ حدیث مبارک میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ تاہم ! اس عمل سے فقط شہوت آجانے یا فقط مذی نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، ہاں! اگر انزال ہو جائے، تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ لہذا روزے کی حالت میں اس عمل سے بچنا ہی چاہیے۔ چنانچہ روزے کی حالت میں میاں بیوی کے بوس و کنار کرنے کے متعلق حدیث پاک میں ہے: ” عن عبد الله بن عمر و بن العاص، قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم ، فسأله شيخ عن القبلة للصائم؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.