Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگلی رکعت کے لئے پنجوں کے بَل کھڑے ہونے کا حکم
- Fatwa no.
- 3697-WAT
- Issued
- 25 رمضان المبارک 1446ھ / 26 مارچ 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز میں سجدے سے یا دوسری رکعت سے جب اگلی رکعت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو پاؤں کے پنجے پر کھڑے ہوتے ہیں ، میرے ایک پاؤں کے پنجے میں درد ہے اگر اس پر زور ڈال کر کھڑی ہوتی ہوں تو شدید درد ہوتا ہے اور کھڑا بھی نہیں ہوا جاتا، تو کیا میں پاؤں آگے نکال کے کھڑی ہو سکتی ہوں تاکہ پنجے پر زور نہ پڑے ؟
Answer (beginning)
اگر آپ کو پنجے کے بل کھڑا ہونے میں شدید درد ہوتا ہے اور کھڑا نہیں ہوا جاتا تو جیسے آپ کو سہولت ہو آپ اسی طرح کھڑی ہو سکتی ہیں کہ پنجے کے بل کھڑا ہونا سنت ہے، جس کا بلاوجہ ترک مکروہ تنزیہی ہے جب کہ عذر ہو تو مکروہ بھی نہیں۔ سنن الترمذی میں ہے " عن أبي هريرة، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم ينهض في الصلاة على صدور قدمیه "ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پاؤں کے پنجوں کے بل اٹھتے تھے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.