Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چاول، دال وغیرہ اناج میت کے پاس رکھنا
- Fatwa no.
- 3696-WAT
- Issued
- 25 رمضان المبارک 1446ھ / 26 مارچ 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کچھ لوگ کسی کے انتقال کے بعد چاول، دال، گیہوں، آلو اور پیاز وغیرہ میت کے پاس رکھ دیتے ہیں، کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟
Answer (beginning)
سوال میں مذکور کاموں سے اجتناب کیا جائے کہ ایسے کاموں کا دین سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ ان چیزوں کو اگر اس انداز سے رکھا کہ بعد میں کسی کے استعمال میں نہ آئیں، بلکہ ضائع ہو جائیں، تو اب یہ کام شر عاسخت ناجائز و گناہ قرار پائے گا، کیونکہ شریعت مطہرہ نے مال ضائع کرنے کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔ ہاں! اگر اس لئے رکھا ہو کہ بعد میں اسے صدقہ کر دیں تو صدقہ کرنے میں حرج نہیں، لیکن صدقہ کرنے کے لیے یہ میت کے پاس رکھنا ضروری نہیں اس کے بغیر ہی کر دیا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.