Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچے کا نام حنظلہ رکھنا

Fatwa no.
3693-WAT
Issued
21 رمضان المبارک 1446ھ / 22 مارچ 2025ء

Question

حنظلہ نام رکھنا کیسا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

حنظلہ ، صحابی رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ورضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے ، ان کی نسبت و برکت کے لیے یہ نام رکھنا بالکل درست بلکہ مستحب ہے، نام رکھنے کے متعلق حدیث پاک میں یہی ترغیب دی گئی ہے کہ نیک لوگوں کے ناموں پر نام رکھو۔ اسد الغابۃ میں ہے " حنظلة بن الربيع - ويقال له: حنظلة الأسيدي، والكاتب، لأنه كان يكتب للنبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "ترجمہ : حنظلہ بن ربیع انھیں حنظلہ اسیدی اور کاتب بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.