Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
متعدد افراد کا ایک آدمی کو زکوٰۃ کی ادائیگی کا وکیل بنانا
- Fatwa no.
- 3680-WAT
- Issued
- 24 رمضان المبارک 1446ھ / 25 مارچ 2025ء
Question
(دعوت اسلامی) ہماری جوائنٹ فیملی ہے، ہمارے گھر کے متعدد افراد ، گھر کے ہی ایک فرد کو ز کوۃ کی رقم دے کر وکیل بنادیتے ہیں کہ مستحق تک زکوۃ پہنچادو، تو کیا کئی افراد ایک آدمی کو زکوۃ کی ادائیگی کا وکیل بنا سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
جی ہاں ! کئی افراد کا ایک شخص کو زکوۃ کی رقم دے کر وکیل بنا دینا کہ وہ مستحق افراد ( مثلا فقیر شرعی ) تک زکوۃ پہنچادے، یہ جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ !از کوۃ دینے والوں اور وکیل، دونوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ زکوۃ کا سال مکمل ہونے پر فور از کوۃ ادا کر دیں کہ سال مکمل ہونے کے بعد بغیر وجہ شرعی تاخیر کرنا گناہ ہے، اور فقط زکوۃ ادا کرنے کے لیے بنائے گئے وکیل کے ہاتھ میں زکوۃ کی رقم جانے سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی، بلکہ جب فقیر شرعی یا اس کے نائب کا قبضہ ہو گا تب زکوۃ ادا کرنا کہلائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.