Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سید شوہر کی غیر سیدہ بیوی کو زکوٰۃ دینا

Fatwa no.
3678-WAT
Issued
24 رمضان المبارک 1446ھ / 25 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر شوہر سید ہے اور بیوی سیدہ نہیں تو کیا سید کی غیرہ سیدہ بیوی کو زکوۃ دی جاسکتی ہے ؟

Answer (beginning)

بیان کر دہ صورت میں اگر سید صاحب کی بیوی ہاشمی خاندان سے نہیں ہے اور فقیر شرعی (یعنی جس کے پاس قرض اور حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی قیمت کے برابر مال موجود نہیں ) ہے ، تو انہیں زکوۃ اور صدقات واجبہ (صدقہ فطر ونذر و کفارہ وغیرہ) دیئے جاسکتے ہیں اور اگر سید صاحب کی بیوی ہاشمی خاندان سے ہے یا فقیر شرعی نہیں، تو انہیں زکوۃ اور صدقات واجبہ نہیں دے سکتے۔ اللہ عزو جل قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا الصَّدَقْتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِيْنِ۔۔۔ ترجمہ کنز الایمان: ز کوۃ تو انہیں لوگوں کے لیے ہے محتاج اور نرے نادار ۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.