Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عذر کی وجہ سے سجدے میں پیشانی زمین پر نہ جمے تو سجدے کا طریقہ

Fatwa no.
3672-WAT
Issued
10 رمضان المبارک 1446ھ / 11 مارچ 2025 ء

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر پیشانی پر پھنسی وغیرہ ہو جس کی وجہ سے سجدے میں پیشانی زمین پر نہ جسے تو نماز کا کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

پیشانی پر کوئی پھنسی یاز خم وغیرہ ہو، جس کی وجہ سے پیشانی زمین پر نہ جم سکتی ہو، تو ایسی صورت میں صرف ناک پر سجدہ کرے، نماز ہو جائے گی، پیشانی لگانا ضروری نہیں ہو گا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ”و إن كان بجبهته جرح لا يستطيع السجود عليه لم يجزئه الإيماء وعليه أن يسجد على أنفه وإن لم يسجد على أنفه وأومألم تجز صلاته، كذا في الذخيرة“ ترجمہ : اگر نمازی کی پیشانی پر زخم ہو جس کی وجہ سے وہ سجدہ کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس کے لئے سجدہ کا اشارہ کرنا کافی نہیں ہو گا بلکہ اس پر لازم ہو گا کہ وہ ناک پر سجدہ کرے ، تو اگر اس نے ناک پر سجدہ نہیں کیا اور اشارہ کیا تو اس کی نماز نہیں ہو گی، یونہی ذخیرہ میں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.