Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مشینوں پرزکوٰۃ کا حکم
- Fatwa no.
- 3660-WAT
- Issued
- 14 رمضان المبارک 1446ھ / 15 مارچ 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید کے پاس مشینیں ہیں، جن کے ذریعے کام کر کے وہ پیسہ کماتا ہے ، ان مشینوں کی مالیت پر زکوۃ کا کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
زید پر ان مشینوں کی مالیت پر زکوۃ لازم نہیں ہو گی، اس وجہ سے کہ مشینری کام کرنے والے کے آلات کی مثل ہے اور کام کرنے والوں کے آلات و اوزار کو حاجات اصلیہ میں شمار کیا جاتا ہے، ان پر زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔ درر اور اس کی شرح غرر میں زکوۃ کی فرضیت کی شرائط میں ہے: ” فارغ۔۔ عن الحاجۃ الاصلية۔۔ فلا تجب فی دورالسکنی۔۔ وآلات المحترفین“ ترجمہ: (زکوۃ کی فرضیت کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ) نصاب حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہو ، پس رہائشی گھروں اور پیشہ وروں کے آلات میں زکوۃ فرض نہیں ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.