Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کرائے پر چلنے والی گاڑیوں پر زکوۃ کا مسئلہ

Fatwa no.
3659-WAT
Issued
14 رمضان المبارک 1446ھ / 15 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ کیا کرائے پر چلنے والی گاڑیوں پر زکوۃ ہے یا ان کے کرائے پر زکوۃ ہے اور اگر کرائے پر زکوۃ ہے تو اس کو کس طرح نکالنا چاہیے ؟

Answer (beginning)

کرائے پر چلنے والی گاڑیوں پر زکوۃ نہیں ہے۔ ہاں البتہ اگر ان کا کرایہ ، بقدر نصاب جمع ہے یا دوسرے اموالِ زکوۃ کے ساتھ مل کر نصاب جتنا ہو جائے تو دیگر شرائط کی موجودگی میں ، نصاب کا سال مکمل ہونے پر اس کرایہ پر زکوۃ لازم ہوگی۔ چنانچہ کرائے پر چلانے کے لئے بنائے ہوئے مکانات پر زکوۃ کے احکام بیان کرتے ہوئے فتاوی رضویہ میں امام اہلسنت مجد د دین و ملت، امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”مکانات پر زکوۃ نہیں اگر چہ پچاس کروڑ کے ہوں، کرایہ سے جو سال تمام پر پس انداز ہو گا اس پر زکوۃ آئے گی اگر خود یا اور مال سے مل کر قدر نصاب ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.