Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شرمگاہ میں پانی جانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

Fatwa no.
3655-WAT
Issued
12 رمضان المبارک 1446ھ / 13 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں پیشاب کرنے کے بعد اگلی شرمگاہ دھو رہا تھا، مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اگلی شرمگاہ میں شاید پانی کا کوئی قطرہ چلا گیا ہے، تو کیا روزہ کی حالت میں مرد کی اگلی شرمگاہ میں پانی چلے جانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، رہنمائی فرما دیں۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں روزہ نہیں ٹوٹا کیونکہ مرد کی اگلی شرمگاہ میں پانی یا تیل وغیر ہ ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اگر چہ وہ پانی یا تیل مثانے تک پہنچ جائے۔ مراقی الفلاح میں ہے : ”صب في إحليله ماء أو دهنا لا يفطر عند أبي حنيفة ومحمد خلا فالأبي يوسف فيما إذا وصل إلى المثانة أما مادام في قصبة الذكر لا يفسد باتفاق و مبنى الخلاف على منفذ للجوف من المثانة وعدمه والأظهر أنه لا منفذله وإنما يجتمع البول في المثانة بالترشيح كذا تقوله الأطباء قاله الزيلعی“ ترجمہ: اگر کسی شخص نے اپنی اگلی شرمگاہ میں پانی یا تیل ڈالا تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمھما اللہ کے نزدیک اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بر خلاف امام ابو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.