Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تجارتی پلاٹ پر تحفہ دینے کی نیت کرلی تو اس پر زکوٰۃ کا حکم

Fatwa no.
3654-WAT
Issued
12 رمضان المبارک 1446ھ / 13 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ایک شخص بیچنے کی نیت سے پلاٹ خریدے اور پھر کچھ عرصے بعد کہے کہ میں یہ پلاٹ اپنی بچی کو شادی میں گفٹ کروں گا، تو کیا اس پلاٹ پر زکوۃ ہو گی ؟

Answer (beginning)

جس وقت سے اس شخص نے بیچنے کی نیت سے خرید ہوئے پلاٹ کے متعلق یہ نیت کی ہے کہ میں یہ پلاٹ اپنی بچی کو گفٹ کروں گا، اس وقت سے یہ پلاٹ مال تجارت ہونے سے نکل گیا کہ اس نے تجارت ترک کرنے کی نیت کرلی، لہذا اس کے بعد سے اس پر زکاۃ لازم نہیں ہو گی، البتہ ! اس سے پہلے تک زکاۃ کی شرائط پائے جانے کی صورت میں اس پر زکاۃ لازم تھی۔ مبسوط سرخسی میں ہے "وما كان عنده من المال للتجارة فنواه للمهنة خرج من أن يكون للتجارة؛ لأنه نوى ترك التجارة وهو تارك لها للحال فاقترنت النية بالعمل “ ترجمہ : جو مال اس کے پاس تجارت کے لیے تھا، پھر اس نے اس مال میں کسی پیشے کے لیے کرنے کی نیت کر لی تو وہ مال تجارت سے نکل گیا،…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.