Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوۃ میں دوائیاں دینے کا حکم

Fatwa no.
3652-WAT
Issued
17 رمضان المبارک 1446ھ / 18 مارچ 2025ء

Question

(دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ زکوۃ میں میڈیسن دینا کیسا ہے؟

Answer (beginning)

زکوۃ کے طور پر رقم دینا ہی ضروری نہیں بلکہ میڈیسن، راشن یا دیگر ضروریات کی چیزیں بھی بطور زکوۃ مستحق زکوۃ کو مالک بنانے سے زکوۃ ادا ہو جاتی ہے۔ ہاں ! یہ یادر ہے کہ زکوۃ میں صرف ان اشیاء کی موجودہ مارکیٹ ویلیو والی قیمت ہی شمار ہو گی، لانے اور لے جانے کے اخراجات وغیرہ زکوۃ میں شامل نہ ہوں گے۔ زکوۃ میں سامان دینے کے متعلق در مختار میں ہے ”لو أطعم یتیما ناوياالزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لوكساه بشرط أن يعقل القبض “ ترجمہ : اگر کسی نے زکوۃ کی نیت سے یتیم کو کھانا کھلا دیا تو اس کی زکوۃ ادا نہیں ہو گی یہاں اگر کھانا اس کے حوالے کر دیا تو ز کوۃ ادا ہو جائے گی جیسا کہ اگر اسے کپڑے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.