Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کا خود سترہ رکھنا
- Fatwa no.
- 3649-WAT
- Issued
- 09 رمضان المبارک 1446ھ / 10 مارچ 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر مسجد وغیرہ میں کوئی شخص بغیر سترہ کے نماز پڑھ رہا ہو ( یعنی نمازی کے سامنے پہلے سے سترہ موجود نہ ہو) اور پھر کوئی دوسرا شخص اس کے سامنے سے گزرنے کے لیے کرسی وغیرہ لا کر اس کے سامنے رکھ کر گزر جائے تو کیا اس کا ایسا کرنا درست ہو گا؟
Answer (beginning)
اگر کوئی شخص نمازی کے آگے سے گزرنا چاہے اور وہ دیکھے کہ اس نمازی کے سامنے سترہ نہیں ہے ، لہذا وہ خود سے کرسی یا کوئی اور چیز جو سترہ بن سکتی ہو ( یعنی کم از کم ایک ہاتھ لمبی ہو اور کم از کم ایک انگل کی مقدار موٹی ہو ) اُسے لا کر نمازی کے سامنے رکھ دے اور پھر اس کی آڑ میں گزر جائے تو اس کا ایسا کرنا درست ہے اور اگر بغیر سترہ کے نمازی کے آگے سے گزرے گا تو گنہگار ہو گا۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ”حیلة الراكب إذا أراد أن يمر أن يصير وراءالدابة ويمرفتصيرالدابة سترةو لا يأثم.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.