Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حیض کی حالت میں قرآنی آیات دم کرنا اور دم کیا ہوا پانی پینا

Fatwa no.
3639-WAT
Issued
16 رمضان المبارک 1446ھ / 17 مارچ2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا عورت حیض کی حالت میں قرانی آیت کا دم کیا ہوا پانی پی سکتی ہے اور قرانی آیت دم کر سکتی ہے ؟

Answer (beginning)

عورت حیض کی حالت میں قرانی آیت کا دم کیا ہوا پانی تو پی سکتی ہے؛ کیونکہ دم والا پانی پینا ان کاموں میں سے نہیں کہ جو حیض کی حالت میں کرنا شرعا نا جائز و ممنوع ہیں۔ البتہ قرآنی آیت کے ذریعے دم وغیرہ نہیں کر سکتی، کہ عورت حیض و نفاس کی حالت میں مطلقا قرآن پاک کی تلاوت نہیں کر سکتی ، ہاں! اگر تلاوتِ قرآن کی نیت نہ ہو، بلکہ حمد وثنا یا دعا کے طور پر پڑھنا چاہے تو وہ آیات کہ جن میں حمد و ثنا یاد عا کی نیت ممکن ہے انہیں اس نیت سے پڑھ سکتی ہے ، پھر اس حمد و ثنا کی برکت سے شفاو غیرہ حاصل ہو ، اس نیت سے کسی پر دم کرنا چاہے تو یہ بھی جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.