Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دکان پر بیٹھنے کی وجہ سے جماعت چھوڑنا
- Issued
- 16 رمضان المبارک 1446ھ / 17 مارچ 2025ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک بھائی ہیں وہ عشا اور تراویح جماعت سے نہیں پڑھتے بلکہ دکان پر خود رکتے ہیں اور چھوٹے بھائی کو نماز کے لیے بھیجتے ہیں، اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ میں اگر خود جاؤں گا تو چھوٹا بھائی نماز نہیں پڑھے گا، جب وہ نماز پڑھ کے آجاتا ہے تو میں پھر عشاو تراویح اپنے طور پر ادا کر لیتا ہوں، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
Answer (beginning)
فرض نماز مسجد کی جماعت اولی کے ساتھ ادا کر نامرد پر واجب ہے جبکہ جماعت ساقط ہونے کا کوئی عذر شرعی نہ ہو ، پوچھی گئی صورت میں دکان پر کھڑا ہونا کوئی عذر شرعی نہیں لہذا لازم ہے کہ جماعت سے نماز ادا کریں، فرض نماز کی جماعت میں زیادہ سے زیادہ دس منٹ لگ جائیں گے ، اتنی دیر اپنی دکان وقتی طور پر بند کر کے سائن "وقفہ برائے نماز " (بہتر ہے کہ دعوت اسلامی کی جانب سے جاری کردہ یہ سائن " ہم نماز کے لیے جاچکے ، آپ بھی آجائیں " مکتبۃ المدینہ سے حاصل کر کے ) لگا دیں اور اپنے بھائی کے ساتھ فرض نماز باجماعت ادا کریں، پھر چاہیں تو دکان پر آجائیں اور جب چھوٹا بھائی تراویح ادا کر کے آجائے تو یہ اپنی تراویح ادا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.