Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ظہر کی نماز مثل ثانی میں ادا کرنے کا حکم

Fatwa no.
3630-WAT
Issued
11 رمضان المبارک 1446ھ / 12 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرا تعلق ہند سے ہے، ابھی میں قطر میں ہوں، میں حنفی ہوں اور اسی کے مطابق ہی عمل کرتا ہوں۔ پوچھنا یہ ہے کہ اگر میں ظہر کی نماز شافعی عصر کے وقت میں (یعنی مثل اول ہو جانے کے بعد مثل ثانی سے پہلے پہلے ) پڑھوں تو کیا میری نماز ہو جائے گی کیونکہ بسا اوقات میرے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ میں کسی کام کی وجہ سے جلدی ظہر نہیں پڑھ پاتا اور شافعی عصر کا وقت ہو جاتا ہے جبکہ حنفیوں کے نزدیک ابھی ظہر ہی کا وقت ہوتا ہے تو کیا میری اس وقت ظہر کی نماز ہو جاتی ہے؟

Answer (beginning)

اگر حنفیوں کے مطابق عصر کا وقت شروع نہیں ہوا اگر چہ شافعیوں کے نزدیک شروع ہو چکا ہو تو اس وقت میں آپ کی ظہر کی نماز ادا ہو جاتی ہے کیونکہ جب آپ حنفی ہیں اور حنفی مذہب کے مطابق ابھی ظہر کا وقت ختم نہیں ہوا ہو تا، بلکہ ظہر کا وقت ہی ابھی باقی ہوتا ہے، تو آپ کی ظہر کی نماز ظہر کے وقت میں ہی ہو گی، البتہ ! اختلاف سے بچنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ آپ ظہر کی نماز مثل اول یعنی شافعی عصر کے وقت سے پہلے ہی پڑھ لیا کریں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.