Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کام آنے کی نیت سے رکھے ہوئے سامان پر زکوٰۃ کا حکم

Fatwa no.
3628-WAT
Issued
02 رمضان المبارک 1446ھ / 03 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اساؤنڈ سسٹم کا کام ہے ، جسے کرائے پر دیتے ہیں، اس میں ہم کچھ سامان اضافی رکھتے ہیں کہ اگر ہمیں کبھی ضرورت ہوئی تو استعمال کریں گے، لیکن وہ سامان سال میں ایک آدھ مرتبہ استعمال ہوتا ہے اور کبھی سال سے بھی زائد عرصے تک استعمال نہیں ہو تا ، مگر اس کو اس نیت سے رکھا ہوا ہے کہ یہ ایمر جنسی یا ضرورت پڑنے پر کام آسکے، تو کیا اس اضافی سامان پر زکوۃ ہو گی ؟

Answer (beginning)

ایسا سامان چونکہ بیچنے کی نیت سے نہیں خرید اجاتا، بلکہ فی الحال یا آئندہ اپنے کام میں استعمال میں لانے کی نیت سے خرید ا جاتا ہے، تو یہ مال تجارت نہیں بنے گا، اور شرعی اعتبار سے سونے چاندی اور چرائی کے جانوروں کے علاوہ باقی چیزوں پر زکوۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جبکہ وہ تجارت کیلئے ہوں یعنی انہیں بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہو ، ورنہ جو سامان تجارت کیلئے نہ ہو تو اس پر زکوۃ بھی فرض نہیں ہو گی۔ صورت مسئولہ میں وہ اضافی سامان اگر چہ پورے سال کام نہ آئے اور اگرچہ اس کی مالیت ہزاروں بلکہ لاکھوں میں ہو ، بہر حال اس پر زکوۃ فرض نہیں ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.