Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا قربانی کے جانور کے بال کاٹنا جائز ہے؟

Fatwa no.
3627-WAT
Issued
02 رمضان المبارک 1446ھ / 03 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی جانور کے بال کاٹ دیئے جائیں تو کیا اس جانور کی قربانی درست ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

جس جانور کے بال کاٹ دیئے گئے ہوں اس کی قربانی درست ہے۔ البتہ ! جس جانور پر قربانی کی نیت کر لی جائے، اس کے بال اپنے کسی کام کے لیے کاٹ لینا مکروہ و ممنوع ہے اور اگر کاٹ لئے تو اسے صدقہ کر دے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ” والحولاء تجزئ وهي التي في عينها حول، وكذا المجزوزة وهي التي جز صوفها، كذافي فتاوی قاضی خان ترجمہ : حولاء جانور کی قربانی جائز ہے اور یہ وہ جانور ہے جس کی آنکھ میں بھینگا پن ہو اور مجزوزہ کی قربانی بھی جائز ہے ، یہ وہ جانور ہے جس کی اون کاٹ لی گئی ہو ، اسی طرح فتاوی قاضی خان میں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.