Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خشک ناپاک بستر پرسونے سے پسینہ آئے توجسم کا حکم

Issued
07 رمضان المبارک 1446ھ / 08 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) اگر سوکھے ناپاک بستر پر سوئے اور جسم پر پسینہ آیا تو کیا جسم ناپاک ہو جائے گا؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر پسینے سے بستر کاناپاک حصہ بھیگ گیا، پھر اس ناپاکی سے جسم تر ہوا تو اب جسم کا وہ حصہ جس پر ناپاک تری لگی وہ ناپاک ہے ، ورنہ نہیں۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ” إذا نام الرجل على فراش فأصابه مني ويبس فعرق الرجل وابتل الفراش من عرقه إن لم يظهر أثر البلل في بدنه لا يتنجس وإن كان العرق كثيرا حتى ابتل الفراش ثم أصاب بلل الفراش جسده فظهر أثره في جسده يتنجس بدنه كذا في فتاوی قاضي خان ترجمہ :جب کوئی شخص ایسے بستر پر سویا کہ جسے منی پہنچی تھی اور وہ خشک ہو گئی پھر اس شخص کو پسینہ آیا اور بستر اس کے پسینے سے تر ہو گیا، تو اگر تری کا اثر اس کے بدن پر ظاہر نہیں ہوا تو بدن ناپاک نہیں ہو گا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.