Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جماعت سے رہ جانے والی تراویح کی رکعات اداکرنے کاوقت

Fatwa no.
3621-WAT
Issued
06 رمضان المبارک 1446ھ / 07 مارچ 2025ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز تراویح میں لیٹ شامل ہوئے، پہلی آٹھ رکعتیں امام صاحب پڑھا چکے تھے ، بارہ رکعتیں امام کے ساتھ پڑھ لیں، اب آٹھ کی قضا کب کریں؟

Answer (beginning)

نماز تراریخ کا وقت عشا کے فرض پڑھنے کے بعد سے طلوع فجر تک ہے، لہذا اگر کسی کی کچھ رکعتیں مثلا آٹھ ، باقی رہ گئیں اور امام وتر کو کھڑ اہو گیا تو امام کے ساتھ وتر پڑھ لے پھر باقی ادا کر لے جب کہ فرض جماعت سے پڑھے ہوں اور یہ افضل ہے اور اگر اپنی رہ جانے والی رکعتیں مثلا آٹھ تراویح پوری کر کے پھرو تر تنہا پڑھے ، تو بھی جائز ہے۔ در مختار میں تراویح کے متعلق ہے ” (وقتها بعد صلاة العشاء) إلى الفجر (قبل الوتر وبعده) في الأصح، فلوفاته بعضها وقام الإمام إلى الوتر أوتر معه ثم صلى مافاته “ترجمہ : تراویح کا وقت عشا کی نماز کے بعد سے فجر تک ہے ، وتر سے پہلے بھی ہو سکتی ہے اور بعد بھی، زیادہ صحیح قول کے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.