Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اسکول کی تعمیر کے لئے زکوٰۃ دینا

Fatwa no.
3616-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا اسکول میں زکوۃ دے سکتے ہیں جب گورنمنٹ مدد نہ کرے اور عمارت کی حالت بہت خراب ہو ؟

Answer (beginning)

زکوۃ کی ادائیگی کے لئے زکوۃ کی رقم کا مستحق زکوۃ ( فقیر یا مسکین وغیرہ) کو مالک بناناضروری ہے ، جبکہ اسکول کی تعمیر میں دینے سے مستحق زکوۃ کو مالک بنانا نہیں پایا جاتالہذا اسکول میں زکوۃ دینا جائز نہیں اور نہ ہی اسکول میں زکوۃ دینے سے زکوۃ ادا ہو گی۔ اسکول کی تعمیر میں زکوۃ و صدقہ واجبہ کی رقم کے علاوہ دوسری رقم خرچ کی جائے۔ اللہ عزوجل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا الصَّدَقَتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسْكِينِ ترجمہ کنز الایمان: زکوۃ تو انہیں لوگوں کے لیے ہے محتاج اور نرے نادار ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.