Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ہاتھ پر ٹیٹو بنے ہونے کی حالت میں نماز کا حکم

Fatwa no.
3615-WAT

Question

(دعوت اسلامی) میں نے بچپن میں غلطی سے ایک چھوٹا سا ٹیٹو ہاتھ میں بنایا تھا، میں نماز پڑھتاہوں پر بہت لوگ بولتے ہیں کہ ٹیٹو کی وجہ سے تیری نماز نہیں ہو گی تو کیا ٹیٹو کی وجہ سے میری نماز نہیں ہو گی ؟

Answer (beginning)

بنیادی طور پر یہ بات یادر کھیں کہ ہر طرح کا ٹیٹو بنوانانا جائز ہے اور اگر کسی نے ٹیٹو ( Tattoo) بنوالیا تھا اور پھر اسے غلطی کا احساس ہو ا تو اب وہ سچی توبہ کرلے۔ ٹیٹو کو آپریشن کروا کر یا گھرچ کر مٹانا واجب نہیں، البتہ اسے چھپا کر رکھے ، اگر کوئی دیکھ لے تو اُسے بتادے کہ میں نے توبہ کر لی ہے۔ توبہ اس کے لیے کافی ہے ، گھر چ کر مٹانے کی صورت میں آزمائش ہو سکتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.