Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پھوپھی کو زکوٰۃ دینا

Answer (beginning)

پاس کچھ ہو تا تو ہے لیکن نصاب سے کم یا نصاب کی مقدار غیر نامی ہو جو اس کی حاجت میں مستغرق ہو۔ اور ایک مسکین، یہ وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں تک کہ وہ کھانے اور بدن چھپانے کے لئے اس کا محتاج ہے کہ لوگوں سے سوال کرے۔(فتاوی ہندیہ ، ج1، ص187،188، دارالفکر، بیروت) رد المحتار میں ہے " عن أبي هريرة مرفوعا إلى النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال «يا أمة محمد والذي بعثني بالحق لا يقبل الله صدقة من رجل وله قرابة محتاجون إلى صلته ويصرفها إلى غيرهم والذي نفسي بيده لا ينظر إليه الله يوم القيامة». اهـ.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.