Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منفرد کے لیے سلام پھیرتے وقت کی نیت

Fatwa no.
3613-WAT

Question

(دعوت اسلامی) اکیلے نماز میں سلام کرتے ہوئے کیا نیت کرتے ہیں؟

Answer (beginning)

منفر د یعنی اکیلا نماز پڑھنے والا جب نماز کا سلام پھیرے تو نماز سے نکلنے کی نیت کے ساتھ ساتھ کرام کا تبین اور اس کی حفاظت کرنے والے فرشتوں پر سلام کی نیت کرے۔ در مختار میں ہے ” (وينوي) الإمام بخطابه (السلام على من في يمينه ويساره) ممن معه في صلاتہ۔۔۔ (والحفظة فيهما)۔۔۔ وينوي المنفرد الحفظة فقط) ترجمہ : امام دائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے خطاب سے ان مقتدیوں کی نیت کرے جو دائیں طرف ہیں اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے ان کی جو بائیں طرف ہیں، اور دونوں سلاموں میں حفاظت کرنے والے فرشتوں کی بھی نیت کرے، اور منفر د فقط حفاظت کرنے والے فرشتوں کی نیت کرے۔ اس کے تحت رد المحتار میں ہے ” ( قوله والحفظة)۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.